جو باپ طلاق دینے کے بعد بچوں کا خرچہ ادا کرتا ہے اسے اپنے بچوں سے ملنے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے ، ماہرقانون بعض اوقات مائیں بچوںکے والد کا نام بدل دیتی ،غلط تربیت پربچے اپنے باپ کا نام تک لینا گوارہ نہیں کرتے،مشرق فورم میں اظہار خیال


لاہورٟ نمائندہ مشرقٞ علیحدگی یا طلاق میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہے ماں اور باپ کے درمیان نہیں لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ اس کی سزا بچوں اور بالخصوص ان کے آبائ کو ملتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار بچوں اور ان کے آبائ کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ممتاز قانونی ماہر فہد صدیقی نےٴٴ مشرق فورمٴٴ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک خاتون بعض مسائل کی وجہ سے علیحدگی اختیار کرتی ہے یا طلاق حاصل کرتی ہے تو ان کے بچوں پر بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور رہی سہی کسر ایسے بچوں کے باپ کو ان سے ملنے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں پوری کردیتی ہیں۔ فہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت لاہور میں 7500 گاڈین کیسز میں لیکن محض پانچ معزز جج صاحبان ہیں جو ان کیسز کی سماعت پر مامور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ ایک نہایت رحم دل اور ہمدرد انسان ہیں ان سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو باپ طلاق دینے کے بعد بچوں کا خرچہ ادا کرتا ہے اسے نہ صرف اپنے بچوں سے ملنے کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے بلکہ انہیں سکولوں میں ہونے والی پیئرنٹس میٹنگ میں شرکت کا حق بھی ملنا چاہیے۔ فہد صدیقی نے کہا کہ اس وقت لاہور میں عدالت کے احاطے میں قائم چھوٹے سے کمرے میں بچوں کی ان کے باپ سے ملاقات کرائی جاتی ہے جو مہینے میں صرف ایک بار دو گھنٹے دورانئے پر محیط ہوتی ہے اس دوران بھی بچوں کے ساتھ ان کے نانی نانا اور ماما وغیرہ آئے ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی میں باپ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر پیار نہیں کرسکتا۔ فہد صدیقی نے بڑے کربناک لہجے میں کہا کہ بعض اوقات مائیں اپنا اور اپنے بچوں کا حتیٰ کہ ان کے والد کا نام بھی تبدیل کردیتی ہیں اور بچوں کی تربیت اس انداز سے کرتی ہیں کہ بچے اپنے باپ کا نام تک لینا گوارہ نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے والد تمام زندگی نفسیاتی مریض بن کر گزار دیتے ہیں اور گھٹ گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ فہد صدیقی نے کہا کہ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ عدالتی تاریخ میں اپنا نام امر کر جائیں اور اس حوالے سے بچوں کے باپ کو مکمل آزادانہ طور پر ملنے کا حق دیں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی باپ بچوں کا خرچہ وقت پر ادا نہ کرے تو اس کے گھر پر پولیس چھاپے مارنا شروع کردیتی ہے لیکن اپنے بچوں سے پورے ایک مہینے میں صرف ایک مرتبہ وہ بھی دو گھنٹے کی ملاقات گاڈین کی موجودگی میں قرین انصاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح طلاق یافتہ خاتون کے گاڈین کی موجودگی قانون کی نظر میں ضروری ہوتی ہے اسی طرح باپ کے رشتہ داروں کو بھی یہی حق ملنا چاہیے کیونکہ بچوں کے حوالے سے جتنے حقوق ایک ماں کے ہوتے ہیں اتنے ہی بچوں کے باپ کے بھی ہوتے ہیں۔ فورم